(۹۴۵۰) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ وَالْیَہُودُ یَصُومُونَ یَوْمَ عَاشُورَائَ فَسَأَلَہُمْ عَنْ ذَلِکَ ؟ فَقَالُوا : ہُوَ الْیَوْمُ الَّذِی ظْہَرَ فِیہِ مُوسَی عَلَی فِرْعَوْنَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لأَنْتُمْ أَوْلَی بِمُوسَی مِنْہُمْ ، فَصُومُوہُ۔ (بخاری ۴۷۳۷۔ مسلم ۷۹۶)
(٩٤٥٠) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو یہود یوم عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ مسلمانوں نے یہودیوں سے اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ اس دن موسیٰ کو فرعون کے مقابلے میں فتح حاصل ہوئی تھی۔ اس پر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ موسیٰ کی یاد منانے کے زیادہ حقدار تم ہو اس لیے اس دن روزہ رکھا کرو۔