(۹۴۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : دَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَیْسٍ عَلَی عَبْدِ اللہِ وَہُوَ یَتَغَدَّی ، فَقَالَ : یَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، اُدْنُ إلَی الْغَدَاء ، فَقَالَ : أَوَلَیْسَ الْیَوْمُ یَوْمَ عَاشُورَائَ ؟ فَقَالَ : وَہَلْ تَدْرِی مَا یَوْمُ عَاشُورَائَ ؟ قَالَ : وَمَا ہوَُ ؟ قَالَ : إنَّمَا ہُوَ یَوْمٌ کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُومُہُ قَبْلَ أَنْ یُنَزَّلَ شَہْرُ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا نَزَلَ شَہْرُ رَمَضَانَ تُرِکَ۔ (مسلم ۱۲۲۔ احمد ۱/۴۲۴)
(٩٤٥١) حضرت عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اشعث بن قیس حضرت عبداللہ کے پاس حاضر ہوئے۔ حضرت عبداللہ کھانا کھا رہے تھے ، آپ نے اشعث بن قیس کو بھی کھانے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا کہ کیا آج عاشوراء کا دن نہیں ؟ حضرت عبداللہ نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو عاشوراء کا دن کیا ہے ؟ انھوں نے پوچھا کہ کیا ہے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رمضان کی فرضیت سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے، جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو آپ نے اس دن روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔