(۹۵۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ فَرُّوخَ ، عَنْ صَالِحٍ الدَّہَّانِ ، قَالَ : رُئِیَ الْہِلاَلُ آخِرَ رَمَضَانَ نَہَارًا ، فَوَقَعَ النَّاسُ فِی الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ ، وَنَفَرٌ مِنَ الأَزْدِ مُعْتَکِفِینَ ، فَقَالُوا : یَا صَالِحُ ، أَنْتَ رَسُولُنَا إلَی جَابِرِ بْنِ زَیْدٍ ، فَأَتَیْتُ جَابِرَ بْنَ زَیْدٍ فَذَکَرْت ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ : أَنْتَ مِمَّنْ رَأَیْتَہُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : أَبَیْنَ یَدَیِ الشَّمْسِ رَأَیْتَہُ ، أَمْ رَأَیْتَہُ خَلْفَہَا ؟ قُلْتُ : لاَ ، بَیْنَ یَدَیْہَا ، قَالَ : فَإِنَّ یَوْمَکُمْ ہَذَا مِنْ رَمَضَانَ ، إنَّمَا رَأَیْتُمُوہُ فِی مَسِیرِہِ ، فَمُرْ أَصْحَابَک یُتِمُّونَ صَوْمَہُمْ وَاعْتِکَافَہُمْ۔
(٩٥٤٩) حضرت صالح دہان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان کے آخری دن دوپہر کے وقت چاند نظر آگیا۔ چاند دیکھ کر لوگ کھانے پینے میں مشغول ہوگئے۔ اس وقت ازد کی ایک جماعت اعتکاف میں بیٹھی تھی۔ انھوں نے کہا اے صالح ! آپ جابر بن زید کی طرف ہمارے قاصد بن کر جائیں۔ میں ان کے پاس گیا اور ان سے ساری بات کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا کہ کیا تم نے بھی چاند دیکھا ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انھوں نے فرمایا کہ تم نے اسے سورج کے سامنے دیکھا ہے یا سورج کے پیچھے ؟ میں نے کہا میں نے اسے سورج کے سامنے دیکھا ہے۔ حضرت جابربن زید نے فرمایا کہ تمہارا آج کا دن رمضان کا دن ہے، تم نے چاند کو اس کی جولان گاہ میں دیکھا ہے۔ اپنے ساتھیوں کو حکم دو کہ روزے اور اعتکاف کو مکمل کریں۔