(۹۵۵۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ عُتْبَۃُ بْنُ فَرْقَدٍ غَائِبًا بِالسَّوَادِ ، فَأَبْصَرُوا الْہِلاَلَ مِنْ آخِرِ النَّہَارِ ، فَأَفْطَرُوا ، فَبَلَغَ ذَلِکَ عُمَرَ ، فَکَتَبَ إلَیْہِ : إِنَّ الْہِلاَلَ إذَا رُئِیَ مِنْ أَوَّلِ النَّہَارِ ، فَإِنَّہُ لِلْیَوْمِ الْمَاضِی ، فَأَفْطِرُوا ، وَإِذَا رُئِیَ مِنْ آخِرِ النَّہَارِ ، فَإِنَّہُ لِلْیَوْمِ الْجَائِی فَأَتِمُّوا الصِّیَامَ۔
(٩٥٥٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن فرقد دیہاتوں میں روپوش تھے۔ لوگوں نے دن کے آخری حصہ میں چاند دیکھا اور روزہ افطار کرلیا۔ یہ بات حضرت عمر کو پہنچی تو آپ نے خط لکھا جس میں فرمایا کہ چانداگردن کے شروع میں دیکھا جائے تو گزشتہ دن کا چاند ہے اس پر تم افطارکر لو اور اگر چاند دن کے آخری حصہ میں نظر آئے تو یہ آنے والے دن کا چاند ہے اس پر روزے کو پورا کرو۔