(۳۱۱۶۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : قِیلَ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : إنَّ فُلاَنًا یَضْحَکُ ، قَالَ : وَلِمَ لاَ یَضْحَکُ ، فَقَدْ ضَحِکَ مَنْ ہُوَ خَیْرٌ مِنْہُ ، حُدِّثْت أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ : ضَحِکَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ رُؤْیَا قَصَّہَا عَلَیْہِ رَجُلٌ ضَحِکًا مَا رَأَیْتہ ضَحِکَ مِنْ شَیْئٍ قَطُّ أَشَدَّ مِنْہُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ : وَقَدْ عَلِمْت مَا الرُّؤْیَا ، وَمَا تَأْوِیلُہَا ، رَأَی کَأَنَّ رَأْسَہُ قُطِعَ ، قَالَ : فَذَہَبَ یَتْبَعُہُ ، فَالرَّأْسُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالرَّجُلُ یُرِیدُ أَنْ یَلْحَقَ بِعَمَلِہِ عَمَلَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ لاَ یُدْرِکُہُ۔
(٣١١٦٠) حضرت جریر بن حازم سے روایت ہے کہ محمد بن سیرین (رض) سے کہا گیا کہ فلاں آدمی ہنستا ہے، آپ نے فرمایا وہ کیوں نہ ہنسے ؟ جبکہ اس سے بہترین ذات ہنسی ہے، مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک آدمی کا خواب سن کر اس قدر ہنسے کہ میں نے آپ کو اس سے زیادہ کسی چیز پر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھے علم ہے کہ کیا خواب تھا اور اس کی کیا تعبیر ہے ؟ اس آدمی نے دیکھا کہ اس کا سر قلم کردیا گیا ، اور وہ اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہے، تو سر سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور آدمی چاہتا ہے کہ اپنے عمل کے ذریعے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پالے لیکن وہ آپ کو نہیں پاسکتا۔