(۳۱۱۶۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ أَبَا مُوسَی الأَشْعَرِیَّ ، أَوْ أَنَسًا قَالَ : رَأَیْتُ فِی الْمَنَامِ کَأَنِّی أَخَذْت جَوَادَّ کَثِیرَۃً فَسَلَکْتہَا حَتَّی انْتَہَیْت إلَی جَبَلٍ ، فَإِذَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَوْقَ الْجَبَلِ ، وَأَبُو بَکْرٍ إلَی جَنْبِہِ وَجَعَلَ یُومِئُ بِیَدِہِ إلَی عُمَرَ ، فَقُلْتُ: إنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا إلَیْہِ رَاجِعُونَ ، مَاتَ وَاللہِ عُمَرُ ، فَقُلْتُ : أَلاَ تَکْتُبُ بِہِ إلَی عُمَرَ ، فَقَالَ : مَا کُنْت أَنْعَی إلَی عُمَرَ نَفْسَہُ۔
(٣١١٦١) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے یا خود حضرت انس (رض) نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بہت سے راستوں پر چلا یہاں تک کہ ایک پہاڑ کے پاس پہنچا، میں نے دیکھا کہ پہاڑ کے اوپر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور آپ کے پہلو میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہیں، اور وہ حضرت عمر (رض) کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، میں نے کہا انا للہ وانا الیہ راجعون، واللہ حضرت عمر (رض) تو فوت ہوگئے، میں نے کہا کیا آپ یہ خواب حضرت عمر (رض) کے پاس لکھ کر نہیں بھیج دیتے ؟ انھوں نے فرمایا کہ میں حضرت عمر (رض) کو انہی کی وفات کی خبر نہیں سناتا۔