(۳۱۱۶۲) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَی رُؤْیَا : کَأَنَّ مَلَکًا انْطَلَقَ بِہِ إلَی النَّارِ ، فَلَقِیَہُ مَلَکٌ آخَرُ وَہُوَ یَزَعُہُ ، فَقَالَ : لَمْ تُرَعْ ، ہَذَا نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ کَانَ یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ، قَالَ : فَکَانَ بَعْدَ ذَلِکَ یُطِیلُ الصَّلاَۃَ باللَّیْلِ ، قَالَ : وَقَدِ انْتَہَی بِی إلَی جَہَنَّمَ وَأَنَا أَقُولُ : أَعُوذُ بِاللہِ مِنَ النَّارِ ، فَإِذَا ہِیَ ضَیِّقَۃٌ کَالْبَیْتِ أَسْفَلُہُ وَاسِعٌ وَأَعْلاَہُ ضَیِّقٌ ، وَإِذَا رِجَالٌ مِنْ قُرَیْشٍ أَعْرِفُہُمْ مُنَکَّسُونَ بِأَرْجُلِہِمْ۔
(بخاری ۱۱۵۶۔ مسلم ۱۹۲۸)
(٣١١٦٢) حضرت نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ان کو دوزخ کی طرف لے کر چلا، اس کو دوسرا فرشتہ ملا اور وہ اس فرشتے کو منع کرنے لگا، اور اس نے مجھ سے کہا آپ ڈریے نہیں، یہ شخص کیا ہی بہترین آدمی ہے اگر رات کا کچھ حصہ نماز پڑھا کرے، راوی فرماتے ہیں کہ آپ اس کے بعد رات کو لمبی لمبی نمازیں پڑھتے تھے، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ وہ مجھے جہنم کے قریب لے گیا اور میں کہہ رہا تھا کہ میں آگ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں نے دیکھا کہ وہ ایک کمرے کی مانند ہے جس کا نچلا حصہ کشادہ اور اوپرکا حصّہ تنگ ہو، اور میں نے دیکھا کہ قریش کے بہت سے آدمی اوندھے منہ اس میں پڑے ہیں جن کو میں پہچانتا ہوں۔