(۳۱۱۷۱) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، قَالَ : قَالَ صِلَۃُ بْنُ أَشْیَمَ : رَأَیْت فِی النَّوْمِ کَأَنِّی فِی رَہْطٍ ، وَکَانَ رَجُلٌ خَلْفِی مَعَہُ السَّیْفُ شَاہِرُہُ ، قَالَ : کُلَّمَا أَتَی عَلَی أَحَدٍ مِنَّا ضَرَبَ رَأْسَہُ فَوَقَعَ ، ثُمَّ یَقْعُدُ فَیَعُودُ کَمَا کَانَ ، قَالَ : فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ مَتَی یَأْتِی عَلَیَّ فَیَصْنَعُ بِی ذَاکَ ، قَالَ : فَأَتَی عَلَیَّ فَضَرَبَ رَأْسِی فَوَقَعَ فَکَأَنِّی أَنْظُرُ إلَی رَأْسِی حِینَ أَخَذْتہ أَنْفُضُ عَنْ شَفَتَیَّ التُّرَابَ ، ثُمَّ أَخَذْتہ فَأَعَدْتہ کَمَا کَانَ۔
(٣١١٧١) حضرت حمید بن ھلال صلہ بن أشیم سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک جماعت کے درمیان ہوں اور میرے پیچھے ایک آدمی تلوار سونتے کھڑا ہے، جب بھی وہ ہم میں سے کسی کے پاس آتا ہے اس کا سر قلم کردیتا ہے تو وہ سر گِر جاتا ہے، پھر وہ مقتول بیٹھ جاتا ہے اور پہلے کی طرح دوبارہ درست ہوجاتا ہے ، فرماتے ہیں کہ میں انتظار کرنے لگا کہ میرے پاس کب آتا ہے اور میرے ساتھ کیا کرتا ہے ؟ چنانچہ وہ میرے پاس آیا اور میرے سر پر مارا تو میرا سر گرپڑا، گویا کہ میں اب بھی اپنے سر کو دیکھ رہا ہوں کہ میں نے اپنا سر پکڑا اور میں اپنے ہونٹوں سے مٹی جھاڑ رہا تھا، پھر میں نے اپنا سر پکڑ کر پہلے کی طرح دوبارہ اس کی جگہ رکھ کر درست کرلیا۔