(۳۱۱۷۲) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، قَالَ : قَالَ صِلَۃُ : رَأَیْت أَبَا رِفَاعَۃَ بَعْدَ مَا أُصِیبَ فِی النَّوْمِ عَلَی نَاقَۃٍ سَرِیعَۃٍ ، وَأَنَا عَلَی جَمَلٍ ثَفَالَ قَطُوفٍ ، وَأَنَا آخِذ عَلَی أَثَرِہِ ، قَالَ : فَیُعَوِّجُہَا عَلَی، فَأَقُولُ : الآنَ أُسْمِعُہُ الصَّوْتَ ، فَسَرَّحہَا ، وَأَنَا أَتْبَعُ أَثَرَہُ ، قَالَ : فَأَوَّلْت رُؤْیَایَ آخُذُ طَرِیقَ أَبِی رِفَاعَۃَ وَأَنَا أُکُدُّ الْعَمَلَ بَعْدَہُ کَدًّا۔ (حاکم ۴۳۲)
(٣١١٧٢) حضرت حمید بن ھلال سے روایت کرتے ہیں فرمایا کہ میں نے حضرت رفاعہ کو ان کے قتل ہونے کے بعد خواب میں دیکھا کہ ایک تیز رفتار اونٹنی پر سوار ہیں اور میں ایک سست رفتار چھوٹے چھوٹے قدم رکھنے والے اونٹ پر سوار ہوں اور ان کے پیچھے پیچھے چلا جا رہا ہوں وہ میری طرف اونٹنی کو موڑ لیتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ اب میں ان کو آواز سنا سکتا ہوں، پھر انھوں نے اونٹنی کو چلا دیا ہے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوں، فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے خواب کی یہ تعبیر لی کہ ابو رفاعہ کے راستہ پر چلوں گا اور میں ان کے بعد کام کرنے میں خوب کوشش کروں گا۔