(۳۱۱۷۴) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ : دَخَلَ شَقِیقٌ عَلَی الْحَجَّاجِ فَقَالَ : مَا اسْمُک ؟ قَالَ : مَا بَعَثَ إلَیَّ الأَمِیرُ حَتَّی عَلِمَ اسْمِی ، قَالَ : أُرِیدُ أَنْ أَسْتَعِینَ بِکَ عَلَی بَعْضِ عَمَلِی ، قَالَ : فَقَالَ : أَمَا إنِّی أَخَافُ عَلَیْکَ نَفْسِی ، فَاسْتَعْفَاہُ فَأَعْفَاہُ ، قَالَ : فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِہِ قَامَ وَہُوَ یَقُولُ : ہَکَذَا یَتَعَاشی ، قَالَ : فَقَالَ الْحَجَّاجُ : سَدِّدُوا الشَّیْخَ ، سَدِّدُوا الشَّیْخَ۔
(٣١١٧٤) حضرت حسین بن علی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ عبد الملک نے فرمایا کہ شقیق (رض) حجاج کے پاس تشریف لائے ، حجاج نے کہا آپ کا نام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ امیر نے میرا نام جاننے سے پہلے مجھے نہیں بلایا، حجاج نے کہا میں چاہتا ہوں کہ آپ سے اپنے بعض کاموں میں مدد لوں، راوی کہتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا کہ مجھے تیرے پاس اپنی جان کا خوف ہے، چنانچہ انھوں نے اس کے کام سے معذرت چاہی اور حجاج نے ان کی معذرت قبول کرلی، راوی فرماتے ہیں کہ جب وہ اس کے پاس سے نکلے تو کھڑے ہو کر فرمانے لگے کہ یہ اسی طرح بتکلف اندھا بنتا رہے گا، راوی کہتے ہیں کہ حجاج نے کہا : شیخ کو سیدھا کرو، شیخ کو سیدھا کرو۔