(۳۱۱۷۵) حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنِ ابْنِ أَبْجَرَ ، قَالَ : بَعَثَ ابْنُ أَوْسَطَ بِالشَّعْبِیِّ إلَی الْحَجَّاجِ وَکَانَ عَامِلاً عَلَی الرَّیِّ ، قَالَ : فَأُدْخِلَ عَلَی ابْنِ أَبِی مُسْلِمٍ وَکَانَ الَّذِی بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ لَطِیفًا ، قَالَ : فَعَذَلَہُ ابْنُ أَبِی مُسْلِمٍ ، وَقَالَ : إنِّی مُدْخِلُک عَلَی الأَمِیرِ فَإِنْ ضَحِکَ فِی وَجْہِکَ فَلاَ تَضْحَکَنَّ ، قَالَ : فَأُدْخِلَ عَلَیْہِ۔
(٣١١٧٥) حضرت ابن ابجر (رض) سے روایت ہے کہ ابن اوسط نے شعبی (رض) کو حجاج کے پاس بھیجا جبکہ وہ ریّ کا گورنر تھا راوی فرماتے ہیں کہ ان کو ابن ابی مسلم کے پاس پہنچا یا گیا ، ان دونوں کے درمیان خوشگوار تعلقات تھے، ابن ابی مسلم نے ان کو ملامت کی اور کہا کہ میں آپ کو امیر کے پاس پہنچاتا ہوں اگر امیر تیرے سامنے ہنسے تو تم مت ہنسنا، راوی کہتے ہیں اس کے بعد ان کو حجاج کے پاس پہنچایا گیا۔