1021 – "سيد بنى دارا واتخذ مأدبة وبعث داعيا فالسيد الجبار والمأدبة القرآن والدار الجنة والداعي أنا فأنا اسمي في القرآن محمد وفي الإنجيل أحمد وفي التوراة أحيد وإنما سميت أحيد لأني أحيد عن أمتي جهنم فأحبوا العرب بكل قلوبكم". (عد ابن عساكر عن ابن عباس) وفيه إسحاق بن بشر متروك.
١٠٢١۔۔ ایک سردار نے گھربنایا اور دعوت کا اہتمام کیا پھر ایک قاصد کو بھیجا، سو سردار توجبار عزوجل کی ذات ہے ، دعوت قرآن ہے ، گھر جنت ہے قاصد میں ہوں، اور قرآن میں میرا نام محمد ہے، انجیل میں احمد ہے ، توراۃ میں احید ہے، اور احید میرا نام اس وجہ سے ہے کہ میں اپنی امت کو جہنم سے چھٹکارا دلاؤں گا، پس تم عرب کے ساتھ اپنے دل کی گہرائیوں سے محبت رکھو۔ ابن عدی، ابن عساکر، بروایت ابن عباس (رض)۔ اس میں ایک راوی اسحاق بن بشر متروک ہے لہٰذا حدیث ضعیف ہے۔