10342 أسرف رجل على نفسه فلما حضره الموت أوصى بنيه فقال : إذا انا مت فأحرقوني ، ثم اسحقوني ، ثم اذروني في البحر ، فو الله لئن قدر علي ربي ليعذبني عذابا ما عذبه أحدا ، ففعلوا ذلك به ، فقال الله للارض أدى ما أخذت ، فإذا هو قائم ، فقال : ما حملك على ما صنعت ؟ قال خشيتك يا رب فغفر له بذلك.(حم ق عن أبي هريرة).
10338 ۔۔۔ فرمایا کہ ایک شخص نے اپنے اوپر خوب مال خرچ کیا اور جب اس کی موت کا وقت آپہنچا تو اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے جلا دینا اور میری راکھ کو پیسنا اور پھر سمندر میں بہا دینا، کیونکہ خدا کی قسم اگر میرا رب مجھ پر قادر ہوگیا تو مجھے وہ عذاب دے گا جو آج تک کسی کو نہ دیا ہوگا، اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے زمین سے فرمایا کہ جو تو نے لیا ہے ادا کردے چنانچہ دیکھتے ہیں دیکھتے وہ شخص دوبارہ زندہ ہو کر اٹھ کھڑا ہوا، اللہ تعالیٰ نے اس سے دریافت فرمایا کہ تجھے اس بات پر کس نے ابھارا ؟ اس نے کہا کہ اے میرے رب میں آپ سے ڈرتا تھا، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف فرمادیا “۔ (مسند احمد ، متفق علیہ بروایت حضرت ابوھریرہ (رض))