10343 إن رجلا حضره الموت فلما أيس من الحياة أوصى أهله إذا أنا مت فاجمعوا لي حطبا كثيرا جزلا ، ثم أوقدوا فيه نارا حتى إذا أكلت لحمي ، وخلصت إلى عشمي ، فامتحشت فخذوها فاطحنوها ، ثم انظروا يوما راحا فاذروها في اليم ، ففعلوا ما أمرهم ، فجمعه الله وقال :لم فعلت ذلك ؟ قال : من خشيتك فغفر له.(حم ق ن ه عن حذيفة وأبي مسعود).
10339 ۔۔۔ فرمایا کہ ” ایک شخص کی موت کا وقت آپہنچا اور وہ زندگی سے ناامید ہوگیا تو اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو بہت سی لکڑیاں جمع کرنا اور پھر ان میں آگ دھکانا جب تک (آگ) میرا گوشت نہ کھاجائے اور میری ہڈیاں جلادے اور میں کوئلہ بن جاؤں تو مجھے لے کر اچھی پیسو، پھر ادن پڑا رہنے دو اور پھر دریا میں بہا دو ، اس کے گھروالوں نے ایسا ہی کیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کیا اور اس سے دریافت فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا ؟ تو اس نے کہا کہ یہ میں نے آپ کے خوف سے کیا اے میرب رب ! تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کردیا “ مسند احمد، متفق علیہ، نسائی، ابن ماجہ بروایت حضرت حذیفہ اور حضرت ابن مسعود (رض))