10432 عن ابن عباس قال : يا صاحب الذنب لا تأمن سوء عاقبته ، ولا تتبع الذنب أعظم من الذنب إلا عملته ، فان قلة حيائك ممن على اليمين وعلى الشمال وأنت على الذنب أعظم من الذي عملته ،وضحكك وأنت لا تدري ما الله صانع بك أعظم من الذنب ، وفرحك بالذنب إذا ظفرت به أعظم من الذنب وحزنك على الذنب إذا فاتك أعظم من الذنب إذا ظفرت به ، وخوفك من الريح إذا حركت ستر بابك وأنت على الذنب لا يضطرب فؤادك من نظر الله اليك أعظم من الذنب إذا عملته.
(كر).
10428 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ اے گناہ کرنے والے ! تو اپنے انجام کی برائی سے خود کو محفوظ نہ سمجھ، اور جب تو کوئی گناہ کرلے تو اس کے بعد اس سے بڑا گناہ کر، اور گناہ کرتے ہوئے اپنے دائیں بائیں کے فرشتوں سے حیا میں کمی کرنا تیرے اس گناہ سے بڑا ہے جو تو نے کیا ہے اور تیرا اس حال میں ہنسنا کہ تجھے علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ کیا کرنے والے ہیں تیرے گناہ سے بھی بڑی چیز ہے، اور گناہ کرنے کے بعد اس گناہ پر تیرا خوش ہونا تیرے اس گناہ سے بڑی چیز ہے، اور تیرا کسی گناہ کے چھوٹنے پر غم زدہ ہوجانا تیرے گناہ کرلینے سے زیادہ بڑا گناہ ہے، اور گناہ کی حالت میں اس گناہ سے بڑا گناہ ہے جس میں تو مبتلا ہے کیونکہ (تو ہوا سے تو ڈرا لیکن ) تیرا دل اس بات سے نہیں گھبرایا کہ اللہ تعالیٰ تجھے دیکھ رہے ہیں “۔ (ابن عساکر)