10433 عن ابن عمرو قال : إن الله تعالى لا يتعاظمه ذنب غفره إن رجلا كان ممن كان قبلكم قتل ثمانيا وتسعين نفسا ، فاتى راهبا ، فقال : إني قتلت ثمانيا وتسعين نفسا ، فهل تجد لي من توبة ؟ فقال له : قدأسرفت ، فقام إليه فقلته ، ثم أتى راهبا آخر ، فقال : إني قتلت تسعا وتسعين نفسا ، فهل تجد لي من توبة ؟ قال : أسرفت ، فقام إليه فقتله ، ثم أتى راهبا آخ ر ، فقال : إني قتلت مائة نفس ، فهل تجد لي من توبة ؟ قال أسرفت ، وما أدري ، ولكن ههنا قريتان ، قرية يقال لها نصرة ، والاخرى يقال لها كفرة ، فأما نصرة فيعملون عمل أهل الجنة ، لا يثبت فيها غيرهم ، وأما أهل كفرة فيعملون عمل أهل النار لا يثبت فيه غيرهم ، فانطلق إلى نصرة ، فان ثبت فيها وعملت مثلها أهلها فلا يشك في توبتك ، فانطلق يريدها ، حتى إذا كان بين القريتين أدركه الموت ، فسألت الملائكة ربها عنه ؟ فقال : انظروا إلى أي القريتين كان أقرب ،فاكتبوه من أهلها ، فوجدوه أقرب إلى نصرة بقيد أنملة ، فكتب من أهلها.
(طب).
10429 ۔۔۔ حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی گناہ کو برا نہیں سمجھتے بلکہ معاف کردیتے ہیں، تم سے پہلے والے امتوں میں ایک شخص تھا جس نے اٹھانوے قتل کئے تھے، چنانچہ ، وہ ایک راھب کے پاس آیا اور اس سے پوچھا کہ میں نے اٹھانوے قتل کئے ہیں کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میری توبہ قبول ہوجائے گی ؟ راھب نے کہا، تو نے حد ہی کردی، چنانچہ وہ شخص کھڑا ہوا اور اس راھب کو بھی قتل کردیا، پھر ایک اور راھب کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ننانوے قتل کئے ہیں کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میری توبہ قبول ہوجائے گی ؟ اس راھب نے کہ تو تو حد سے تجاوز کرگیا، مجھے معلوم نہیں، لیکن یہاں دوعلاقے ہیں ایک کا نام نصرۃ ہے اور دوسرے کا نام کفرۃ، نصرۃ والے تو اہل جنت والے اعمال کرتے ہیں ان کے ساتھ ان کے علاوہ کوئی (گناہ گار) نہیں رہ سکتا اور کفرۃ والے دو زخیوں والے اعمال میں مبتلا ہیں ان کے ساتھ بھی کوئی (نیکوکار) نہیں رہ سکتا ، تو تم نصرہ کی طرف چلے جاؤ، سو اگر تم ان کے ساتھ رہنے لگے اور انہی جیسے اعمال کرنے لگے تب تو تمہاری توبہ میں کوئی شک نہیں چنانچہ وہ نصرۃ والے علاقے کے ارادے سے روانہ ہوا، یہاں تک کہ جب وہ دونوں علاقوں کے درمیان پہنچا تو اس کی موت آگئی، فرشتوں نے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دونوں علاقوں کو دیکھو، جس علاقے کے زیادہ قریب تھا اس کی طرف کا معاملہ کرو، چنانچہ انھوں نے اس کو نصرۃ سے انگلی کے ایک پورے کے برابر زیادہ قریب پایا اور اس کو انہی میں شامل سمجھا گیا۔ (طبرانی)
فائدہ :۔۔۔ یعنی اس کی توبہ کرلی گئی، واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)