10460 عن محمد بن الحنفية أن رجال قال له : أجد غما لا أعرف له سببا وقد ضاق قلبي ، فقال غم لم تعرف له سببا عقوبة ذنب لم تفعله فقال الرجل : ما معنى ذلك ؟ فقال : المعنى في ذلك أن القلب يهم بالمعصية فلا تساعده الجوارح فيعاقب بالغم دون الجوارح.(كر).
10456 ۔۔۔ حضرت محمد بن الخسفیہ (رض) کے بارے میں مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ مجھے اپنے دل میں غم کا احساس ہوتا ہے حالانکہ میں اس کی وجہ نہیں جانتا اور میرا دل تنگ ہوگیا ہے، تو محمد بن الحنفیہ نے فرمایا کہ ایسا غم جس کی وجہ تمہیں معلوم نہ ہو یہ اس گناہ کی سزا ہے جو تم نے نہیں کیا، اس شخص نے پوچھا کہ کیا مطلب، انھوں نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دل کسی گناہ کا ارادہ کرتا ہے لیکن اعضاء وجوارح اس کا ساتھ نہیں دیتے، تو اس کی سزا غم سے دی جاتی ہے اعضاء وجوارح کو اس کی سزا نہیں دی جاتی۔