10461 عن عمر قال : قدم على النبي صلى الله عليه وسلم بسبي ، فإذا امرأة من السبي تسعى إذ وجدت صبيا في السبي أخذته فالصقته ببطنها وأرضعته فقال لنا النبي صلى الله عليه وسلم : أترون هذه طارحة ولدها في النار ؟ قلنا : لا ، وهي تقدر على أن لا تطرحه ، فقال : الله أرحم بعباده من هذه بولدها.(خ م وأبو عوانة حل).
10457 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جناب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں کچھ قیدی لائے گئے
تو اچانک قیدیوں میں سے ایک عورت تیزی سے آگے بڑھی، اسے قیدیوں میں اپنا بچہ ملا تھا، اس عورت نے اپنے بچے کو پکڑا اور پیٹ سے لگا لیا اور اسے دودھ پلانے لگی، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے دریافت فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینکے گی ؟ ہم نے جواباً عرض کیا نہیں اگر یہ اس بات پر قادر ہو کہ اپنے بچے کو آگ میں نہ پھینکے، تو آپ نے فرمایا کہ جتنا رحم اس عورت کو اپنے بچے پر آتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ اپنے بندوں پر رحم کرتے ہیں۔ (بخاری، مسلم، ابوعوانہ، حلیہ ابی نعیم)