10644 من انتدب خارجا في سبيل الله ابتغاء وجهه ، وتصديق وعده وايمانا برسالاته على الله ضامن ، فاما أن يتوفى في الجيش بأي حتف شاء فيدخله الجنت ، وإما أن يصبح في ضمان الله وإن طالت غيبته ، ثم يرده إلى أهله سالما مع ما نال من أجر أو غنيمة ، ومن خرج في سبيل الله فمات أو قتل فهو شهيد ، أو وقصته فرسه أو بعيره أو لدغته هامة أو منات على فراشه بأي حتف شاء الله ، فانه شهيد ، وله الجنة.
(ق عن أبي مالك الاشعري).
10640 ۔۔۔ فرمایا کہ ” جو کفار کا جواب دیتے ہوئے اللہ کی رضا کی خاطر اللہ کے راستے میں نکلا، اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہوئے تو وہ اللہ کی ضمانت میں ہے، سویا تو اللہ تعالیٰ اس کو لشکر میں ہی وفات دے دے جیسے چاہے اور پھر اس کو جنت میں داخل کردے یا وہ اللہ کی ضمانت میں ہوجائے اگرچہ اس کی عدم موجودگی طویل ہوجائے پھر وہ صحیح سلامت اجر وثواب اور مال غنیمت لے کر اپنے گھروالوں کے پاس آئے، اور جو اللہ کے راستے میں نکلا اور مرگیا یا قتل کیا گیا تو وہ شہید ہے یا اس کو اس کا گھوڑا یا اس کا اونٹ گرادے جس سے اس کی گردن ٹوٹ جائے، یا اس کو کوئی چیز ڈس لے یا وہ اپنے بستر پر کسی بھی طرح مرجائے تو وہ شہید ہے اور جنت اس کے لیے ہے “۔ (متفق علیہ بروایت حضرت ابو مالک الاشعری (رض))