10643 إن الله تعالى قال : من انتدب خارجا في سبيلي غازيا ابتغاء وجهي وتصديق وعدي ، وإيمانا برسلي فهو ضامن على الله عزوجل إما يتوفاه في الجيش بأي حتف شاء فيدخله الجنة ، وإما يصبح من ضمان الله ، وإن طالت غيبته حتى يرده إلى أهله مع ما نال من أجر وغنيمة.(طب عن أبي مالك الاشعري).
10639 ۔۔۔ فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو پکار کا جواب دیتے ہوئے میرے راستے میں نکلا، میری رضا کی خاطر جہاد کرتے ہوئے اور میرے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اور میرے رسولوں پر ایمان رکھتے ہوئے، تو اس کی ذمہ داری اللہ عزوجل پر ہے یا تو اس کو لشکر میں وفات دے دے جس طرح چاہے اور پھر اسے جنت میں داخل کرے، اور یا وہ اللہ کی ضمانت میں ہوگا، اگرچہ اس کی غیر حاضر گھر والوں سے طویل ہوجائے یہاں تک کہ وہ مال غنیمت اور اجر وثواب لے کر اپنے گھر والوں میں واپس آجائے “۔ (طبرانی بروایت حضرت ابومالک الاشعری (رض))