11097 ما كانت هذه تقاتل فيمن يقاتل ، أدرك خالدا فقل له : إن رسول الله يأمرك أن لا تقتل ذرية ، في لفظ : امرأة ولا عسيفا.(حم ن ه والطحاوي حب والباوردي وابن قانع طب ص عن المرقع بن صيفي عن حنظلة الكاتب) قال : غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فمررنا على امرأة مقتولة فقال : فذكره.
(حم د ن ه والطحاوي والبغوي حب ك عن المرقع بن صيفي بن رباح عن جده رباح بن الربيع أخي حنظلة الكاتب) قال ابن حجر في أطرافه وهو المحفوظ وادعى (حب) أن الطريقين محفوظان
11093 ۔۔۔ یہ عورت قتال کرنے والی نہ تھی ان لوگوں میں سے جو قتال کرتے ہیں، حضرت خالد (رض) کو پایا تو فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو حکم دیتے ہیں کہ بچوں کو قتل مت کیجئے “۔ اور ایک روایت میں ہے نہ عورتوں کو اور نہ مردوں کو “۔ (مسند احمد، نسائی، ابن ماجہ، طحاوی، ابن حبان باوردی، ابن قانع، طبرانی، سعید بن منصور بروایت حضرت موقع بن صیفی بروایت حضرت حنظلۃ الکاتب (رض) )
فرمایا کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک جنگ میں شریک تھے کہ ہم ایک مقتول عورت کے پاس سے گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ ارشاد فرمایا “۔ (مسند احمد، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، طحاوی، بغوی، ابن حبان، مستدرک حاکم بروایت مرقع بن صیفی بن رباح عن جدہ رباح بن الربیع اخی حنظلۃ الکاتب (رض))