hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 11355

.

كنز العمال

11355
Kanz al-Ummal
11355 عن أبس حماس عن عسعس بن سلامة قال : كنا في الجبانة ومعنا أبو حاضر الاسدي ، فقال رجل من القوم : وددت أن لنا في هذا الجبانة قصرا فيه من الطعام واللباس ما يكفينا حتى الموت ، فقال أبو حاضر : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد بعض أصحابه ، فسأل عنه فقيل له :أنه قد تفرد في بعض هذه القفران يتعبد فبعث إليه فأتي به ، فقال : ما حملك على ما صنعت ؟ فقال : يا رسول الله كبرت سني ورق عظمي ، وقرب أجلي ، فأحببت أن أخلو بعبادة ربي ، فنادى رسول الله صلى الله عليه وسلم بأعلى صوته وكان إذا أراد أن يعلم الناس أمرا نادى به فينا ، ألا إن موطنا من مواطن المسلمين أفضل من عبادة الرجل وحده ستين سنة نادى بها ثلاثا.(هب).
11351 ۔۔۔ ابوحماس روایت کرتے ہیں عسعس بن سلامۃ سے فرمایا کہ ہم جبابہ میں تھے اور حضرت ابوحاضر الاسدی (رض) بھی ہمارے ساتھ تھے، تو قوم میں سے ایک آدمی نے کہا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ ہمارا اس وادی حبانہ میں ایک محل ہو جس میں اتنا کھانا اور لباس ہو ایک مرتبہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بعض صحابہ کو موجود نہ پایا اور ان کے بارے میں دریافت فرمایا تو بتایا گیا کہ وہ اس علاقے کے کسی حصے میں الگ تھلگ ہو کر عبادت کرتے ہیں، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلوا بھیجا وہ آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کہ تمہیں اس حرکت پر کس نے اکسایا ؟ عرض کیا ، یارسول اللہ ! میری عمر زیادہ ہوگئی، ہٖڈیاں نرم ہوگئیں اور وقت قریب آگیا تو میں نے یہپ پسند کیا کہ میں تنہا ہوجاؤں اور اپنے رب کی عبادت کروں، سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلند آواز سے پکارا (اور جب) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چاہتے کہ لوگوں کو کوئی بات بتائیں تو اسی طرح ہمارے اندر بلند آواز کرتے تھے۔
سنو ! مسلمانوں کے میدان جنگ میں سے ایک میدان جنگ بھی کسی شخص کی تنہا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے، اس جملے کو تین مرتبہ پکارکر فرمایا “۔ (بیھقی فی شعب الایمان)