11366 عن مسروق قال : إن الشهداء ذكروا عند عمر بن الخطاب فقال عمر للقوم : ما ترون الشهداء ؟ قال القوم : يا أمير المؤمنين هم من يقتل في هذه المغازي ، فقال عند ذلك : إن شهداءكم إذا لقليل ، إني أخبركم عن ذلك إن الشجاعة والجبن غرائز في الناس يضعها الله حيث يشاء ، فالشجاع يقاتل من وراء من لا يبالي أن يوؤب إلى أهله ، والجبان فار عن حليلته ، ولكن الشهيد من احتسب بنفسه ، والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه ، والمسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده.
(ش).
11362 ۔۔۔ حضرت مسروق سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے سامنے شہداء کا ذکر ہوا، تو حضرت عمر (رض) نے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ تم شہید کسے سمجھتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کیا، اے امیر المومنین ! وہ جو ان جنگوں میں قتل ہوتے ہیں، تو اسی وقت حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اس طرح تو تمہارے شہید بہت کم ہوجائیں گے، میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں ، بیشک یہادری اور بزدلی دوفطری حالتیں ہیں جو لوگوں میں گاڑھی (ودیعت فرمائی) گئی ہیں، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے جیسی چاہتا ہے عطا فرمایا دیتا ہے ، سو بہادر تو اس طرح جنگ لڑتا ہے کہ کوئی اس کو پروا نہیں ہوتی کہ وہ واپس اپنے گھر بھی پہنچ سکے گا یا نہیں اور بزدل تو اپنی بیوی سے بھی بھاگتا ہے ، لیکن شہید وہ ہے جو اپنے نفس کا احتساب کرے، اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور مسلمان وہ ہے جس کی زباں اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں “۔ (ابن ابی شیبہ)