hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 11367

.

كنز العمال

11367
Kanz al-Ummal
11367 عن أبي البحتري الطائي أن ناسا كانوا بالكوفة مع أبي المختار يعني والد المختار ابن أبي عبيد حيث قتل بجسر أبي عبيد قال : فقتلوا إلا رجلين حملا على العدو بأسيافهما فأفرجوا لهما فنجيا أو ثلاثة فاتوا المدينة ، فخرج عمر وهم قعود يذكرونهم ، فقال عمر : عم قلتم لهم ؟ قالوا : استغفرنا لهم ، ودعونا لهم ، قال : لتحدثني بما قلتم لهم أو لتلقون مني برحاء قالوا : إنا قلنا لهم : إنهم شهداء ، قال : والذي لا إله غيره والذي بعث محمدا بالحق لا تقوم الساعة إلا باذنه لا تعلم نفس حية ماذا عند الله لنفس ميتة إلا نبي الله ، فان الله غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر ، والذي لا إله غيره والذي بعث محمدا بالحق والهدى ، لا تقوم الساعة إذا بانه إن الرجل يقاتل رياء ويقاتل حمية ويقاتل يريد الدنيا ويقاتل يريد المال ، وما للذين يقاتلون عند الله إلا ما في أنفسهم. (الحارث) قال الحافظ ابن حجر : رجاله ثقات إلا أنه منقطع.
11363 ۔۔۔ ابوالبختری فرماتے ہیں کہ لوگ کوفہ میں ابوالمختار کے ساتھ تھے یعنی مختار بن ابی عبید کے والد کے ساتھ اس طرح کہ جسدابی عبید پر قتل ہوگیا تھا، سو دو آدمیوں کے علاوہ سب قتل ہوگئے اور انھیں بچنے کا موقع مل گیا وہ تین تھے سو وہ مدینہ منورہ آئے ، پھر حضرت عمر (رض) نکلے اور وہ لوگ بیٹھے انہی کا ذکر کررہے تھے حضرت عمر (رض) نے دریافت فرمایا کہ تم نے ان سے کیا کہا تھا ؟ عرض کیا کہ ہم نے ان کے لیے مغفرت مانگی اور دعا مانگی، فرمایا کہ یا تو تم لوگ وہ بات صاف صاف بتادوگے جو تم نے کہی ورنہ میری طرف سے سخت مشکل میں پڑ جاؤگے، انھوں نے عرض کیا کہ ہم نے ان سے کہا تھا کہ وہ لوگ شہداء ہیں فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور قسم اس ذات کی جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر بھیجا قیامت بھی اس کے حکم سے قائم ہوگی کوئی زندہ انسان نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس کسی مرنے والے کے لیے کیا ہے علاوہ اللہ کے نبی کے کیونکہ ان کے تو اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہوتے ہیں ، اور قسم اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق اور ہدایت دے کر بھیجا ہے اور قیامت بی اس کے حکم سے قائم ہوگی بیشک ایک شخص دکھاوے کی نیت سے قتال کرتا ہے اور ایک شخص غیرت میں قتال کرتا ہے اور ایک شخص دنیا کے لیے قتال کرتا ہے اور ایک شخص مال کے لیے قتال کرتا ہے اور نہیں ہے ان لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں کچھ علاوہ ان نیتوں کے جو وہ کرتے تھے “ (الحارث)
ابن حجر نے کہا ہے کہ اس کے روای ثقات ہیں مگر سند منقطع ہے۔