11394 عن سهل بن الحنظلة قال : بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فالتقوا هم والعدو فحمل رجل من بني غفار ، فقال خذها وأنا الفتنى الغفاري ، فقال رجل : بطل أجره ، فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال : سبحان الله لا بأس ، وفي لفظ : وما بأس أن يحمد ويؤجر (ع كر).
11390 ۔۔۔ حضرت سہل بن الحنظلیۃ (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دستہ روانہ فرمایا جب دشمن سے سامنا ہوا تو قبیلہ بنوغفار کے ایک شخص نے حملہ کیا اور کہا کہ لو (میرے حملے کا جواب دو ) میں ایک غفاری نوجوان ہوں یہ سن کر ایک شخص نے کہا کہ اس کا اجر ضائع ہوگیا، یہ واقعہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں عرض کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سبحان اللہ ، کوئی حرج نہیں ؟ اور ایک روایت میں الفاظ یوں ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ اس کی تعریف کی جائے اور اجر دیا جائے “۔ (مسند ابی یعلی)