11395 عن ابن عباس قال : بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا من أصحابه إلى رجل من اليهود فأمره بقتله ، فقال له : يا رسول الله إني لا أستطيع ذلك إلا أن تأذن لي ، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إنما الحرب خدعة فاصنع ما تريد.
(ابن جرير).
11391 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ میں سے ایک صحابی کو ایک یہودی کے قتل کا حکم دے کر روانہ فرمایا، صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! جب تک آپ مجھے کچھ اجازت نہ دیں گے تو میں کچھ نہیں کرسکتا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جنگ تو ہے ہی دھوکا جو چاہے کرو “۔ (ابن جریر)
فائدہ :۔۔۔ اجازت لینے سے مراد یہ ہے کہ حکمت علمی کے طور پر اس یہودی تک رسائی کے لیے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کچھ کہنا چاہوں تو کہہ سکتا ہوں یا نہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اجازت مرحت فرمائی “۔ واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)