11487- عن عنترة قال: كان علي يأخذ الجزية من كل صنع من صاحب الإبر الإبر، ومن صاحب المسال المسال، ومن صاحب الحبال حبالا، ثم يدعو العرفاء فيعطيهم الذهب والفضة فيقتسمونه ثم يقول: خذوا هذا فاقتسموه، فيقولون: لا حاجة لنا فيه، فيقول: أخذتم خياره وتركتم علي شراره لتحملنه. "أبو عبيد وابن زنجويه معا في الأموال".
11483 ۔۔۔ عنترۃ فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) ہر ہنر مند سے جزیہ لیا کرتے تھے، سوئی والے سے سوئی اور تلوار
والے سے تلوار، رسیوں والے سے رسی ، پھر ماہرین کو بلاتے اور سونا چاندی ان کے حوالے کرتے وہ تقسیم کرتے ، پھر فرماتے ، یہ لے لو اور اس کو تقسیم کردو، وہ عرض کرتے کہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں، تو حضرت علی (رض) فرماتے کہ تم نے بہترین حصہ لیا اور برا حصہ چھوڑ دیا تمہیں ضرور لینا ہوگا “۔ (ابوعبید ، ابن زبجویہ معافی الاموال)