11488- عن عبد الملك بن عمير قال: أخبرني رجل من ثقيف قال: استعملني علي بن أبي طالب على برج سابور فقال: لا تضربن رجلا سوطا في جباية درهم ولا تبيعن لهم رزقا ولا كسوة شتاء ولا صيف ولا دابة يعملون عليها، ولا تقم رجلا قائما في طلب درهم: قلت: يا أمير المؤمنين إذن أرجع إليك كما ذهبت من عندك، قال: وإن رجعت كما ذهبت، ويحك إنما أمرنا أن نأخذ منهم العفو يعني الفضل. "ص".
11484 ۔۔۔ عبدالملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ مجھے ثقیف کے ایک شخص نے اطلاع دی اور کہا کہ حضرت علی (رض) نے مجھے برج سابور پر مقرر کیا تھا اور فرمایا تھا کہ دراھم کی وصولی کے لیے پر کوڑا مت اٹھانا اور نہ ہی کھانے پینے کی چیزیں ان کو فروخت کرنا اور سردی گرمی کا لباس اور نہ جانور جس پر وہ کام کرتے ہیں اور کوئی شخص درھم طلب کرنے کئے لیے کھڑا نہ رہے، میں نے عرض کیا، اے امیر المؤمنین، اس طرح تو میں آپ کے پاس اسی طرح آجاؤں گا جس طرح خالی ہاتھ تھا، فرمایا کہ خواہ تو اسی طرح پاس آجائے جس طرح تو گیا تھا، احمق کہیں کے، ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے کہ ہم ان سے وہ وصول کرلیں جو ان کے پاس اضافی ہے “۔ (سنن سعید بن منصور)