11647- عن أنس بن مالك وسعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب كتب المهاجرين على خمسة آلاف، والأنصار على أربعة آلاف، ومن لم يشهد بدرا من أبناء المهاجرين على أربعة آلاف فكان منهم عمر بن أبي سلمة بن عبد الأسد المخزومي، وأسامة بن زيد ومحمد ابن عبد الله بن جحش الأسدي، وعبد الله بن عمر، فقال عبد الرحمن ابن عوف: إن ابن عمر ليس من هؤلاء إنه وإنه، فقال ابن عمر: إن كان لي حق فأعطنيه، وإلا فلا تعطنيه، فقال عمر: لابن عوف اكتبه على خمسة آلاف، واكتبني على أربعة آلاف، فقال عبد الله: لا أريد هذا، فقال عمر: والله لا أجتمع أنا وأنت على خمسة آلاف. "ش ق".
11643 ۔۔۔ حضرت انس (رض) بن مالک اور سعید بن المسیب (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مہاجرین کے لیے پانچ پانچ ہزار اور انصار کے لیے چار چار ہزار وظیفہ مقرر فرمایا، اور مہاجرین کی اولادوں میں سے جنہوں نے جنگ بدر میں شرکت نہ کی تھی ان کا بھی چار ہزار وظیفہ مقررہوا۔
ان میں عمر بن ابی سلمۃ بن عبدالاسد المخزومی، اسامہ بن زید محمد بن عبداللہ بن جحش الاسدی، اور عبداللہ بن عمر (رض) شامل تھے، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف (رض) فرمایا کہ ابن عمر تو ان میں سے نہیں ہے وہ تو وہ تو۔ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ اگر میرا حق بنتا ہے تو عطا فرما دیجئے ورنہ رہنے دیجئے تو حضرت عمر (رض) نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف (رض) سے فرمایا کہ اس کا حصہ بھی پانچ ہزار لکھ دو اور میرا چار ہزار لکھ دو ، حضرت عبداللہ (رض) بولے میں نہیں چاہتا تھا، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں اور تو دونوں پانچ پانچ ہزار وصول نہیں کرسکتے “۔ ابن ابی شیبہ، متفق علیہ)