11648- عن أبي هريرة أنه قدم على عمر من البحرين، قال: فقدمت عليه، فصليت معه العشاء، فلما رآني سلمت عليه، فقال: ما قدمت به؟ قلت: قدمت بخمسمائة ألف، قال: تدري ما تقول؟ قلت: مائة ألف، ومائة ألف، ومائة ألف، ومائة ألف، ومائة ألف، قال: إنك ناعس ارجع إلى بيتك فنم ثم اغد علي، فغدوت عليه فقال: ما جئت به؟ قلت: بخمسمائة ألف، قال: أطيب، قلت نعم، لا أعلم إلا ذاك، فقال للناس: إنه قدم علي مال كثير، فإن شئتم أن نعده لكم عدا، وإن شئتم أن نكيله لكم كيلا؟ فقال رجل: يا أمير المؤمنين إني رأيت هؤلاء الأعاجم يدونون ديوانا، يعطون الناس عليه، فدون الديوان، وفرض للمهاجرين في خمسة آلاف خمسة آلاف، وللأنصار في أربعة آلاف اربعة آلاف، وفرض لأزواج النبي صلى الله عليه وسلم في اثنى عشر ألفا اثنى عشر ألفا. "ش واليشكرى في اليشكريات هق كر".
11644 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ وہ بحرین سے حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، فرماتے ہیں ، میں ان کے پاس پہنچا اور ان کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی، جب انھوں نے مجھے دیکھا تو میں نے انھیں سلام کیا ؟ تو آپ (رض) نے فرمایا کے کیا لائے ؟ میں نے عرض کیا کہ چانچ لاکھ لایاہوں ، دریافت فرمایا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی جی ہاں، ایک لاکھ، اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ اور ایک لاکھ، فرمایا تم اونگ رہے ہو اپنے گھر چلے جاؤ اور سوجاؤ کل میرے پاس آنا، میں اگلے دن پھر خدمت میں حاضر ہوا، پھر دریافت فرمایا کہ کیا لائے ہو ؟ میں نے عرض کیا پانچ لاکھ ، دریافت فرمایا کہ پاکیزہ مال ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں مجھے اس کے علاوہ اور کچھ معلوم نہیں ہے پھر لوگوں سے فرمایا کہ یہ میرے پاس بہت سامال لائے ہیں سو اگر تم چاہو تو تمہارے لیے تیار کر رکھیں اور اگر تم چاہو تو تم کو کسی پیمانے سے ناپ ناپ کردے دیں ؟ ایک شخص نے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین، یہ عجمی لوگ فہرستیں اور رجسٹربنایا کرتے ہیں اور انہی کے مطابق لوگوں کو دیتے ہیں میں نے ان کو ایساہی کرتے دیکھا ہے، چنانچہ حضرت عمر (رض) نے بھی رجسٹر بنوائے اور مہاجرین کے لیے پانچ پانچ ہزار وظیفہ مقرر فرمایا اور انصار کے لیے چارچارہزار، اور امہات المومنین (رض) کے لیے بارہ بارہ ہزار وظیفہ مقرر فرمایا “۔ (ابن ابی شیبہ، یشکرفی یشکربات، سنن کری بیھقی)