11650- عن أسلم قال: سمعت عمر يقول: اجتمعوا لهذا المال، فانظروا لمن ترونه، وإني قد قرأت آيات من كتاب الله سمعت الله يقول: {مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى} إلى قوله {أُولَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ} والله ما هو لهؤلاء وحدهم {وَالَّذِينَ تَبَوَّأُوا الدَّارَ وَالْأِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ} الآية، والله ما هو لهؤلاء وحدهم {وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ} الآية والله ما من أحد من المسلمين إلا وله حق في هذا المال، أعطي منه أو منع حتى راع بعدن. "هق ش".
11646 ۔۔۔ اسلم فرماتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت عمر (رض) فرما رہے تھے کہ اس مال کے لیے جمع ہوجاؤ اور دیکھو اس بارے تم کیا سمجھتے ہو اور میں نے اللہ کی کتاب سے آیات پڑھی ہیں میں اللہ تعالیٰ کا کلام سنا کہ ” اللہ نے اپنے رسول کو جو مال عطا کیا “ سے لے کر یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں “ تک۔ (سورۃ الحشر آیت 7 ۔ 8) اور خدا کی قسم وہ تنہا ان سب کے لیے نہیں ہے اور وہ لوگ جنہوں نے گھر فراہم کئے اور (سورۃ الحشر آیت 9) اور خدا کی قسم وہ تنہا ان کے لیے نہیں ہے اور لوگ جو آئے ان کے بعد (سورۃ الحشر آیت 10) خدا کی قسم مسلمانوں میں سے کوئی نہیں جس اس مال میں حق نہ ہو، خواہ اس کو دیا گیا ہو یا نہ دیا گیا ہو، بھلے وہ عدن کا کوئی چرواہاہی کیوں نہ ہو “۔ (سنن کبری بیھقی، ابن ابی شیبہ)