11651- عن الأحنف بن قيس قال: كنا جلوسا بباب عمر فخرجت جارية فقلنا سرية أمير المؤمنين، فسمعت فقالت: ما أنا بسرية أمير المؤمنين، وما أحل له، إني لمن مال الله، فذكر ذلك لعمر، فقال: صدقت وسأخبركم بما أستحل من هذا المال، أستحل منه حلتين: حلة للشتاء، وحلة للصيف، وما يسعني لحجي وعمرتي وقوتي وقوت أهل بيتي، وسهمي مع المسلمين كسهم رجل ليس بأرفعهم ولا أوضعهم. "أبو عبيد في الأموال ص ش وابن سعد هق".
11647 ۔۔۔ حضرت احنف بن قیس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر (رض) کے دروازے پر بیٹھے تھے کہ ایک باندی نکلی ہم نے کہا امیرالمومنین کی موطؤہ ہے اس نے سن لیا اور کہا کہ میں امیرالمومنین کی موطؤہ نہیں ہوں اور نہ ہی ان کے لیے حلال ہوں میں تو اللہ کے مال میں سے ہوں، یہ بات حضرت عمر (رض) کے سامنے بیان کی گئی آپ (رض) نے فرمایا کہ اس نے صحیح کہا، میں تمہیں بتاتاہوں کہ میں نے اس مال میں سے کیا حلال سمجھا ہے اس سے دوکپڑے حلال سمجھ کر لیے ہیں ایک سردیوں کے لیے اور ایک گرمیوں کے لیے اور میرے پاس اپنے حج اور عمرے اور اپنے بعد اپنے گھر والوں کی خوراک کی گنجائش نہیں ہے اور مسلمانوں کے ساتھ میرا حصہ انہی کی طرح ہے نہ ان سے زیادہ نہ ان سے کم “۔ ابوعبید فی الاموال، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن سعد، سنن کبری بیھقی)