11682- عن إبراهيم قال: لما افتتح المسلمون السواد قالوا لعمر: اقسمها بيننا فإنا فتحناه فأبى عمر وقال: فما لمن جاء بعدكم من المسلمين؟ وأخاف إن تقاسموا أن تفاسدوا بينكم في المياه، فأقر أهل السواد في أرضهم وضرب على رؤسهم الجزية، وعلى أرضهم الطسق، يعني الخراج.
"أبو عبيد وابن زنجويه".
11678 ۔۔۔ ابراھیم فرماتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے سواد فتح کرلیا تو حضرت عمر (رض) سے درخواست کی کہ اسے ہمارے درمیان تقسیم کر دیجئے کیونکہ اسے ہم نے فتح کرلیا ہے تو حضرت عمر (رض) نے انکار فرمایا اور فرمایا کہ ان مسلمانوں کا کیا قصور ہے جو تمہارے بعد آئیں گے اور مجھے ڈر ہے کہ تم اسے آپس میں تقسیم کرلوگے اور پانی کے معاملے میں فساد کرو گے سو حضرت عمر (رض) نے اھل سواد کو ان کی زمینوں پر برقرار رکھا اور ان پر جزیہ مقرر فرمادیا اور ان کی زمینوں پر خراج مقرر کردیا “۔ (ابوعبید، ابن زنجویہ)