11730- عن الأسود بن سريع قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وغزوت معه فأصبت ظفرا، فقتل الناس يومئذ حتى قتلوا الولدان فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ما بال أقوام جاوز بهم القتل اليوم حتى قتلوا الذرية؟ فقال رجل: يا رسول الله إنما هم أبناء المشركين، فقال ألا إن خياركم أبناء المشركين، ثم قال: ألا لا تقتلوا ذرية، كل مولود يولد على الفطرة، فما يزال عليها حتى يعرب عنها لسانه، فأبواه يهودانه أو ينصرانه أو يمجسانه. "حم والدارمي ن وابن جرير حب طب ك حل ق ص".
11726 ۔۔۔ حضرت اسود بن ربیع (رض) فرماتے ہیں کہ میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں پہنچا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد میں شرکت کی اور کامیابی سے ہمکنار ہوا، اس دن لوگوں نے خوب قتال کیا یہاں تک کہ بچے بھی قتل ہوئے، جب یہ اطلاع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہوا کہ قتال میں حد سے گزرگئے حتیٰ کہ اولادوں کو قتل کرنا شروع کردیا ، ایک شخص نے عرض کیا کہ یارسول اللہ وہ تو مشرکوں کے بچے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سنو ! تم میں سے آج کے بہترین لوگ مشرکوں کے ہی بچے ہیں، پھر فرمایا کہ سنو ! اولاد کو قتل نہ کرو، ہر بچہ جو پیدا ہو تو ہے وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور اس وقت تک اسی حال میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس سے اس کی زبان چھین لی جاتی ہے سو اس کے والدین اس کو یہودی، عسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں “۔ (مسند احمد دارمی، نسائی، ابن جریر، ابن حبان، طبرانی، مستدرک حاکم، حلیہ ابی نعیم، متفق علیہ، سعید بن منصور)