11758- عن يونس بن ميسرة بن حلبس قال: نزل المسلمون الجابية وهم أربعة وعشرون ألفا، فوقع الطاعون فيهم، فذهب منهم عشرون ألفا، وبقي أربعة آلاف، فقالوا: هذا طوفان، وهذا رجز، فبلغ ذلك معاذا، فبعث فوارس يجمعون الناس فقال: اشهدوا المدارس اليوم عند معاذ، فلما اجتمعوا، قام فيهم فقال: أيها الناس والله لو أعلم أني أقوم فيكم بعد مقامي هذا ما تكلفت القيام فيكم، وقد بلغني أنكم تقولون هذا الذي وقع فيكم طوفان ورجز، والله ما هو الطوفان ولا الرجز، وإنما الطوفان والرجز كان عذابا، عذب الله به الأمم، ولكن في الدنيا ... الله لكم فاستجاب لكم دعوة نبيكم صلى الله عليه وسلم، ألا فمن أدرك خمسا واستطاع أن يموت، فليمت: أن يكفر الرجل بعد إيمانه، وأن يسفك الدم بغير حقه وأن يعطى مال الله بأن يكذب أو يفجر، وأن يظهر التلاعن بينكم، أو يقول الرجل حين يصبح: والله لئن حييت أو مت ما أدري ما أنا عليه. "كر".
11754 ۔۔۔ یونس بن مسیرۃ بن حلبس فرماتے ہیں کہ چوبیس ہزار (24000) مسلمان کا جابجا پہنچے، تو وہاں پر طاعون پھیل گیا جس سے بیس ہزار (2000) کا انتقال ہوگیا اور چار ہزار (4000) باقی بچے انھوں نے کہا کہ یہ طوفان ہے یہ تو ڈانٹ ہے یہ بات حضرت معاذ (رض) کو معلوم ہوئی تو انھوں نے شہسواروں کو بھیجا تاکہ لوگوں کو جمع کریں اور کہا کہ آج حضرت معاذ (رض) کے پاس جا بیٹھو، لہٰذا جب سب لوگ جمع ہوگئے تو حضرت معاذ (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا، اے لوگو ! خدا کی قسم اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میں آج کے بعد بھی اس جگہ تمہارے درمیان کھڑا ہوسکوں گا تو مجھے آج یہ تکلیف کرنے کی ضرورت نہ تھی اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگ کہہ رہے ہو کہ یہ طوفان ہے یہ ڈانٹ ہے خدا کی قسم نہ یہ طوفان ہے اور نہ ہی ڈانٹ کیونکہ طوفان اور ڈانٹ تو صرف عذاب ہی ہیں جس ےس اللہ تعالیٰ امتوں کو عذاب دیتے ہیں لیکن دنیا میں ۔۔۔ سو تمہارے لیے تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا قبول فرمائی، سنو ! جس کو پانی مل گئے اور وہ طاقت رکھتا ہے کہ مرجائے تو اس کو مرجانا چاہیے۔ یہ بہتر ہے اس سے کہ کوئی شخص ایمان کے بعد کافر ہوجائے اور ناحق خون بہایا جائے یا ناحق اللہ کا مال اس طرح دے دیا جائے کہ اس کے لیے جھوٹ بولے یا فسق وفجور کرے اور بہتر ہے اس سے کہ تم لوگوں کے درمیان لعنت ملامت ظاہر ہو یا کوئی شخص صبح اٹھے تو یہ کہے۔ خدا کی قسم اگر میں زندہ رہا یا مرگیا تو میں نہیں جانتا میرا کیا حال ہوگا۔
فائدہ :۔۔۔ یعنی مرجانا ان صورتوں کے پیش آنے سے بہتر ہے واللہ اعلم بالصواب۔ (مترجم)