11759- عن عبد الرحمن بن غنم قال: كان عمرو بن العاص حين أحس بالطاعون فرق فرقا شديدا فقال: يا أيها الناس تبددوا في هذه الشعاب وتفرقوا، فإنه قد نزل بكم أمر من الله لا أراه إلا رجزا أو الطوفان، قال شرحبيل بن حسنة: قد صاحبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنت أضل من حمار أهلك، قال عمرو: صدقت، قال معاذ لعمرو ابن العاص: كذبت ليس بالطوفان ولا بالرجز ولكنها رحمة ربكم ودعوة نبيكم وقبض الصالحين قبلكم، اللهم آت آل معاذ النصيب الأوفر من هذه الرحمة. "كر".
11755 ۔۔۔ حضرت عبد الرحمن بن غنم (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے جب طاعون پھیلتا محسوس کیا تو بہت زیادہ خوف زدہ ہوگئے اور فرمایا کہ اے لوگو ! ان گھاٹیوں میں منتشر ہوجاؤ اور پھیل جاؤ کیونکہ اللہ کی طرف سے تم پر ایک چیز نازل ہوئی ہے جسے میں کوئی زبردست ڈانٹ یا کوئی طوفان ہی سمجھتا ہوں، حضرت شرحبیل بن حسنۃ (رض) نے فرمایا کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے اور آپ تو زبردست غلط فہمی میں مبتلا ہیں، حضرت عمروبن العاص (رض) نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا، حضرت معاذ (رض) نے حضرت عمرو (رض) بن العاص (رض) سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ سے غلطی ہوئی یہ کوئی طوفان یا ڈانٹ وغیرہ نہیں ہے بلکہ یہ تو آپ کے رب کی رحمت اور تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا ہے اور تم سے پہلے صالحین کی وفات ہے، اے اللہ ! معاذ کی اولاد کو اس رحمت میں سے بھرپور حصہ عطا فرما “۔