11762- عن ربيع بن إياس الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فاد ابن أخي جبر الأنصاري، فجعل أهله يبكون عليه، فقال لهم جبر: لا تؤذوا رسول الله صلى الله عليه وسلم بأصواتكم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعهن فليبكين ما دام حيا، فإذا وجب فليسكتن، فقال بعضهم، ما كنا نرى أن يكون موتك على فراشك حتى تقتل في سبيل الله مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أو ما الشهادة؟ إلا القتل في سبيل الله، إن شهداء أمتي إذا لقليل، إن الطعن شهادة، والبطن شهادة، والنفساء بجمع شهادة والحرق شهادة، والهدم شهادة، والغرق شهادة، وذات الجنب شهادة. "طب".
11758 ۔۔۔ ربیع بن ایاس الانصاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبر الانصاری کے بھتیجے کے پاس آئے جن کی وفات ہورہی تھی ان کے گھر والے رونے لگے، جبر نے کہا کہ اپنی آوازوں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت نہ پہنچاؤ، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب تک وہ زندہ ہیں، ان عورتوں کو رونے دو ، سو جب ان کی وفات ہوجائے گی تو وہ خاموش ہوجائیں گی، بعض لوگوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ آپ کی وفات اپنے بستر پر ہوگی ہمارا خیال تھا کہ آپ اللہ کے راستے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر جہاد کرتے ہوئے قتل ہوں گے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اور شہادت پھر کس کو کہتے ہیں ؟ علاوہ اللہ کے راستے میں قتل ہونے کے اس طرح تو میری امت کے شہید بہت کم ہوجائیں گے نیزے سے قتل ہونا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے، اور وہ عورت جو اپنے نفاس میں مرے وہ بھی شہید ہے، جل کر مرنے والا بھی شہید ہے، کسی عمارت وغیرہ کے نیچے دب کر مرنے والا بھی شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے اور ذات الجنب کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے۔ (طبرانی)