hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 11761

.

كنز العمال

11761
Kanz al-Ummal
11761- عن يزيد بن أسد أنه قدم على عمر بن الخطاب من دمشق فقال: ما الشهداء فيكم يا أمير المؤمنين؟ فقال: الشهداء من قاتل في سبيل الله حتى يقتل، فما تقولون فيمن مات حتف أنفه لا تعلمون منه إلا خيرا؟ قال نقول عبد عمل خيرا ولقي ربا لا يظلمه يعذب من عذب بعد الحجة عليه والمعذرة فيه أو يعفو عنه، فقال: عمر كلا والله ما هو كما تقولون من مات مفسدا في الأرض ظالما للذمة عاصيا للإمام غالا للمال ثم لقي العدو فقاتل فقتل فهو غير شهيد ولكن الله قد يعذب عدوه بالبر والفاجر وأما من مات حتف أنفه لا تعلمون منه إلا خيرا، فكما قال الله تعالى: {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ} الآية. "أبو العباس الأصم في جزء من حديثه".
11757 ۔۔۔ یزید بن اسد فرماتے ہیں کہ وہ دمشق سے حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آئے اور پوچھا کہ یا امیر المومنین آپ میں سے شہید کون ہوتے ہیں ؟ تو فرمایا کہ شہید وہ ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے اور قتل ہوجائے، اور تم بتاؤ جو شخص اپنی طبعی موت مرجائے تو تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو حالانکہ تم اس کے بارے میں بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتے، عرض کیا، کہ ہم کہتے ہیں کہ بندہ تھا نیک عمل کیا اور اپنے رب سے جاملا، وہ اس پر ظلم نہ کرے گا عذاب دے گا جسے عذاب دینا ہوگا اس کے خلاف حجت پوری ہونے کے بعد یا معذرت کے بعد یا معافی کے بعد، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ ہرگز نہیں، معاملہ اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہو، جو زمین میں فساد کرتا ہوا ذمیوں پر ظلم کرتا ہوا امام کی نافرمانی کرتا ہوا مال میں خیانت کرتا ہواجہاد میں آیا دشمن کا سامنا کیا اور قتال کیا پھر قتل ہوگیا تو وہ شہید نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کبھی اس کے دشمن کو نیکی اور فاجر کے ساتھ بھی عذاب دیتے ہیں رہا وہ جو اپنی طبعی موت مرگیا اور تم اس کے بارے میں بھلائی کے علاوہ اور کچھ نہیں جانتے یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا انبیاء اور صدیقوں میں سے۔ (سورة النساء، بریت 69، ابو العباس فی جزء من حدیثہ)