12767- "مسند أبي بكر الصديق رضي الله عنه" عن ميمون ابن مهران أن أعرابيا أتى أبا بكر فقال: قتلت صيدا وانا محرم، فما ترى علي من الجزاء؟ فقال أبو بكر لأبي بن كعب وهو جالس عنده: ما ترى فيها؟ فقال الأعرابي: أتيتك وأنت خليفة رسول الله صلى الله عليه سلم أسألك، فإذا أنت تسأل غيرك فقال أبو بكر: وما تنكر؟ يقول الله {يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} ، فشاورت صاحبي حتى إذا اتفقنا على أمر أمرناك به. "عبد بن حميد وابن أبي حاتم".
12767 (مسند ابی بکر (رض)) میمون بن مہران سے مروی ہے کہ ایک اعرابی حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے ایک شکار قتل کردیا ہے حالانکہ میں احرام کی حالت میں تھا۔ آپ اس کا مجھ پر کیا بدلہ دیکھتے ہیں ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت ابی بن کعب سے جو آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ارشاد فرمایا : آپ اس میں کیا (بدلہ) دیکھتے ہیں ؟ (اتنے میں) اعرابی (درمیان میں) بول پڑا کہ میں آپ کی خدمت میں آیا تھا اور آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ہیں تاکہ آپ سے سوال کروں۔ اور آپ خود کسی اور سے سوال کررہے ہیں ! حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تجھے کیوں برا لگ رہا ہے ؟ (حالانکہ) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : بحکم بہ ذواعدل منکم۔ اس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر آدمی کریں اس وجہ سے میں نے اپنے ساتھی سے مشورہ کیا تاکہ ہم کسی بات پر متفق ہوجائیں تو اس کا تجھے حکم کردیں۔ عبد بن حمید، ابن ابی حاتم