12769- عن عمر بن الخطاب أنه وجد ريح طيب بذي الحليفة فقال: ممن هذا الطيب؟ فقال معاوية: مني يا أمير المؤمنين فقال: منك لعمري قال: طيبتني أم حبيبة، وزعمت أنها طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم عند إحرامه، قال: اذهب فاقسم عليها لما غسلته فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الحاج الشعث التفل. "حم ش" بدون فإني سمعت إلى آخره ورجاله رجال الصحيح إلا أن سليمان بن يسار لم يسمع من عمر. "والبزار" بتمامه وسنده ومتصل إلا أن فيه إبراهيم بن يزيد الخوزي متروك.
12769 حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے ذوالحلیفہ میں خوشبو محسوس کی۔ پوچھا : یہ خوشبو کس سے آرہی ہے ؟ حضرت معاویہ (رض) نے عرض کیا : مجھ سے آرہی ہے اے امیر المومنین ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تجھ سے آرہی ہے میری عمر کی قسم ! معاویہ (رض) بولے : مجھے (میری بہن) ام المومنین ام حبیبہ نے لگائی ہے ان کا خیال ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے احرام باندھنے (تلبیہ پڑھنے) کے وقت لگائی تھی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جا اور اس سے قسم دے کر پوچھ کہ اس خوشبو کو (لگانے کے بعد) دھویا نہیں تھا۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : حاجی تو میلے کچیلے پراگندہ بال ہوتے ہیں مسند احمد ، ابن ابی شیبہ، ابن ابی شیبہ میں (خانی سمعت کیونکہ میں نے) اسے آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں سوائے اس کے سلیمان ابن سیار نے عمر (رض) سے سماعت نہیں کی (البزار) نے اس کو پورا نقل کیا ہے مگر اس میں ابراہیم بن یزید خوزی متروک راوی ہے۔