12814- عن سليمان بن يسار أن هبار بن الأسود حدثه أنه جاء يوم النحر وعمر بمنحر فقال: يا أمير المؤمنين؛ أخطأنا كنا نرى هذا اليوم يوم عرفة فقال له عمر: اذهب إلى مكة فطف بالبيت سبعا وبين الصفا والمروة ومن معك، ثم انحر هديا إن كان معك، ثم احلقوا أو قصروا وارجعوا فإذا كان حج قابل فحجوا وأهدوا، فمن لم يجد هديا فصيام ثلاثة أيام في الحج وسبعة إذا رجعتم. "الصابوني في المائتين ق"
12814 سلمان بن یسار سے مروی ہے کہ ھبار بن الاسود نے ان کو بیان کیا کہ وہ یوم النحر کو حضرت عمر (رض) کے پاس قربان گاہ (منیٰ ) میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اے امیر المومنین ! ہم سے غلطی ہوگئی ہم اس دن کو (یعنی دس ذی الحجہ کو) عرفہ کا دن سمجھتے رہے ۔ تو حضرت عمر (رض) نے ان کو ارشاد فرمایا : مکہ جاؤ اور بیت اللہ کے سات چکر کاٹو اور صفاومروہ کی سعی کرو اور جو تمہارے ساتھ ہیں وہ بھی یہی اعمال کریں، پھر اگر تمہارے ساتھ ہدی کا جانور ہے تو اس کو (یہاں لاکر) قربان کرو پھر حلق کراؤ یا قصر کراؤ (سرمنڈؤ یا بال چھوٹے کرالو) جب آئندہ سال حج ہو تو حج کرو اور اپنے ساتھ ہدی کا جنور لیتے آؤ، اگر ہدی کا جانور نہ ملے تو تین دن ایام حج میں (یہیں ) روزے رکھو اور سات روزے واپس اپنے گھر جاکر رکھو۔ الصابونی فی الماتین، السنن للبیہقی