12816- عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أنه سئل عن رجل محرم وقع بامرأته فأرسله إلى عبد الله بن عمر، فذهب فسأله فقال: بطل حجه قال: فيقعد؟ قال: لا بل يخرج مع الناس فيصنع ما يصنعون، فإذا أدركه قابل حج وأهدى، ثم سأل ابن عباس فقال مثل قول ابن عمر قال عمرو: أقول مثل ما قالا. "كر".
12816 عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ ان (کے دادا) سے سوال کیا گیا ایک آدمی نے حالت احرام میں اپنی عورت سے مباشرت کرلی تو انھوں نے اس کو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس بھیج دیا۔ اس نے حضرت ابن عمر (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے ارشاد فرمایا : اس کا حج تو باطل (ختم ) ہوگیا۔ آدمی نے پوچھا : کیا وہ بیٹھ جائے (مزید حج کے افعال کرنے سے رک جائے ؟ ) تو حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ نکلتا ریہ اور ان کی طرح کے اعمال بجا لاتا رہے۔ پھر اگر اس کو آئندہ سال حج کا زمانہ مل جائے تو حج کرے اور ہدی ساتھ لائے۔
پھر اس شخص نے یہی سوال حضرت ابن عباس (رض) سے کیا تو انھوں نے بھی حضرت ابن عمر (رض) کی طرح جواب ارشاد فرمایا۔ عمر ابن شعیب کہتے ہیں : میں بھی ان دونوں حضرات کی طرح اپنا قول اختیار کرتا ہوں۔ ابن عساکر۔