12904- عن ابن عمر أنه كان يدعو بهذا الدعاء على الصفا والمروة وبعرفات وبين الجمرتين وفي الطواف: اللهم اعصمني بدينك وطواعيتك وطواعية رسولك، اللهم جنبني حدودك، اللهم اجعلني ممن يحبك ويحب ملائكتك، ويحب رسلك، ويحب عبادك الصالحين، اللهم حببني إليك وإلى ملائكتك وإلى رسلك وإلى عبادك الصالحين، اللهم يسرني لليسرى وجنبني العسرى واغفر لي في الآخرة والأولى، واجعلني من أئمة المتقين، اللهم إنك قلت: ادعوني أستجب لكم وأنك لا تخلف الميعاد، اللهم إذ هديتني للإسلام فلا تنزعني منه ولا تنزعه مني حتى تقبضني وأنا عليه. "حل".
12904 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ آپ صفاومروہ ، میدان عرفات، جمر تین کے درمیان اور طواف کے دوران یہ دعا پڑھتے تھے :
اللھم اعصمنی بدینک وطواعیتک وطواعیۃ رسولک، اللھم جنبنی حدودک، اللھم اجعلنی ممن یحبک ویحب ملائکتک ویحب رسلک، ویحب عبادک الصالحین، اللھم حبنی الیک والی ملائکتک والی رسلک والی عبادک الصالحین اللھم یسرنی للیسری وجنبنی العسری واغفرلی فی الآخرۃ والاولیٰ ، واجعلنی من ائمۃ المتقین ، اللھم انک قلت، ادعونی استجب لکم، وانک لاتخلف المیعاد اللھم اذھدیتنی للاسلام فلا تنز عنی منہ ولا تنزعہ منی حتیٰ تقبضنی وانا علیہ۔
اے اللہ ! میری حفاظت فرما اپنے دین کے ساتھ، اپنی اطاعتوں کے ساتھ اور اپنے رسول کی اطاعتوں کے ساتھ، اے اللہ ! مجھے اپنی منع کردہ حدود (میں پڑنے) سے محفوظ رکھ، اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو تجھ سے محبت رکھتے ہیں اور تیرے ملائکہ سے محبت رکھتے ہیں اور تیرے رسولوں سے محبت رکھتے اور تیرے نیک بندوں سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ مجھے اپنا محبوب بنا، اپنے ملائکہ کا محبوب بنا، اپنے رسولوں اور اپنے نیک بندوں کا محبوب بنا۔ اے اللہ نیکی کو میرے لیے آسان کردے اور بدی کو مجھ سے دور کردے اور دنیا و آخرت میں میری مغفرت فرما اور مجھے نیک لوگوں کا پیش روبنا۔ اے اللہ تو نے ارشاد فرمایا ہے : مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور بیشک تو وعدہ خلافی نہیں فرماتا۔ اے اللہ ! جب تو نے مجھے اسلام کی ہدایت نصیب فرمادی ہے تو مجھے اس سے نہ نکال اور نہ اس کو مجھ سے نکال حتیٰ کہ آپ مجھے اسی (اسلام) پر اٹھائیں اور میں اسی پر قائم رہوں۔ حلیۃ الاولیاء