12907- عن يحيى بن زرارة بن كريم بن الحارث حدثني أبي عن جده الحارث بن عمرو أنه لقي النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع وهو على ناقته العضباء فقلت: بأبي أنت وأمي يا رسول الله، استغفر لي، فقال: غفر الله لكم ثم استدرت إلى الشق الآخر رجاء أن يخصني، فقلت: استغفر لي فقال: غفر الله لكم، فقال رجل: يا رسول الله الفرائع والعتائر1 فقال: من شاء فرع ومن شاء لم يفرع، ومن شاء عتر ومن شاء لم يعتر وفي الغنم أضحيتها، ثم قال: ألا إن دماءكم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا وبلدكم هذا وشهركم هذا. "أبو نعيم".
12907 یحییٰ بن زرارۃ کریم بن الحارث سے مروی ہے کہ مجھے میرے والد نے اپنے دادا حارث بن عمرو سے نقل کیا : حارث بن عمرو کہتے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی عضبانامی اونٹنی پر سوار تھے۔ میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یارسول اللہ ! میرے لیے اللہ سے مغفرت مانگ دیجئے۔ آپ نے دعا فرمائی : اللہ تمہاری سب کی مغفرت کرے۔ پھر میں دوسری طرف سے گیا اس امید سے کہ شاید خاص میرے لیے دعا کردیں اور میں نے عرض کیا میرے لیے استغفار فرما دیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر اسی طرح دعا دی : اللہ تم سب کی مغفرت کرے۔ ایک آدمی نے عرض کیا : رسول اللہ ! فرع اور عتیرہ کا کیا حکم ہے ؟ (فرع مشرکین اور مسلمان شروع زمانہ کو اسلام میں اونٹنی کے پہلے بچے کو اپنے معبودوں کے لیے ذبح کرتے تھے اور عتیرہ رجب میں بکری ذبح کرتے تھے) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو چاہے فرع کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ اور جو چاہے عتیرہ کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ اور ہاں قربانی جانوروں کی عیدالاضحی کو ہے۔ پھر ارشاد فرمایا : خبردار ! تمہارے خون، تمہارے اموال تم پر حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس شہر اور اس ماہ میں محترم ہے۔ ابونعیم