12908- عن عتبة بن عبد الملك السهمي قال: حدثني زرارة بن كريم بن الحارث بن عمرو السهمي أن الحارث بن عمرو حدثه قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بمنى أو بعرفات وتجيء الأعراب فإذا رأوا وجهه قالوا: هذا وجه مبارك، قلت: يا رسول الله؛ استغفر لي قال: اللهم اغفر لنا فدرت، فقلت: يا رسول الله، استغفر لي فقال: اللهم اغفر لنا فدرت فقلت: يا رسول الله، استغفر لي فقال: اللهم اغفر لنا، فذهب يبزق فقال بيده فأخذ بزاقه فمسح بها نعله كره أن يصيب به أحدا ممن حوله ثم قال: أيها الناس، أي يوم هذا وأي شهر هذا إن دماءكم فذكر نحوه. "أبو نعيم".
12908 عتبہ بن عبدالملک السہمی سے مروی ہے فرماتے ہیں : مجھے زرارۃ بن کریم بن الحارث بن عمرو السہمی نے بیان کیا کہ ان کو حارث بن عمرو نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں منیٰ میں یا عرفات میں حاضر ہوا۔ آپ کے پاس اعراب (عربی بدو) آجا رہے تھے۔ جب وہ آپ کے چہرے مبارک کو دیکھتے تو کہتے یہی چہرہ وہ مبارک چہرہ ۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے لیے استغفار کر دیجئے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! ہم سب کی مغفرت فرما۔ میں دوسری طرف سے گھوم کر گیا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! میرے لیے استغفار کر دیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ہم سب کے لیے مغفرت فرما دیجئے۔ میں پھر گھوم کر دوسری طرف گیا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! (خاص) میرے لیے استغفار کر دیجئے ! آپ نے پھر وہی دعا فرمائی : اے اللہ ! ہماری مغفرت فرمادے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھوکنے لگے تو اس کو اپنے ہاتھ پر تھوکا اور اپنے جوتے پر مسل لیا اس احتیاط سے کہ کہیں کسی کے اوپر نہ گرجائے پھر ارشاد فرمایا : اے لوگو ! یہ کون سا دن ہے اور کونسا ماہ ہے ؟ بیشک تمہارے خون ۔۔۔الخ ۔ پھر پچھلی حدیث کے مثل ذکر فرمایا۔ ابونعیم