1299 – "انتسب رجلان من بني إسرائيل على عهد موسى أحدهما مسلم والآخر مشرك فقال أنا فلان ابن فلان حتى عد تسعة آباء ثم قال لصاحبه انتسب لا أم لك فقال: أنا فلان ابن فلان وأنا بريء مما وراء ذلك فنادى موسى في الناس فجمعهم ثم قال: قد قضي بينكما أما أنت الذي انتسبت إلى تسعة آباء فأنت توفيهم العاشر في النار وأما أنت الذي انتسبت إلى أبويك فأنت امرؤ من أهل الإسلام". (طب عن معاذ) .
١٢٩٩۔۔ عہد موسیٰ (علیہ السلام) میں دو شخصوں نے اپنا اپنا حسب ونسب بیان کیا، ایک کافر تھادوسرامسلم، کافر نے کہاں میں فلاں ابن فلاں ہوں اس طرح اس نے سات پشتوں کو گنوایا۔ پھر دوسرے سے کہا، توبتا تیری ماں گم ہو تو کون ہے ؟ دوسرے نے کہا میں فلاں ابن فلاں ہوں اور باقی سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں موسی نے لوگوں میں منادی کروائی، اور ان کو جمع کیا، پھر فرمایا تمہارے متعلق فیصلہ کردیا گیا ہے ، لہٰذا اے نوپشتوں تک اپنے نسب بیان کرنے والے تو جہنم میں ان کی دس کی تعداد پوری کرے گا، اور اے دوباپوں تک اپنے نسب پر اکتفار کرنے والے تو اہل اسلام کا فرزند ہے۔ الکبیر للطبرانی (رح)، بروایت معاذ (رض) ، موقوف ، رجال احد ایسانید طبرانی صحیح مجمع ج ٨ ص ٨٦۔