13230- من شرب الخمر فسكر لم تقبل له صلاة أربعين يوما فإن مات فإلى النار فإن تاب قبل الله منه، فإن شرب الثانية فكذلك، فإن شرب الثالثة فكذلك، فإن شرب الرابعة كان حقا على الله أن يسقيه من ردغة الخبال قيل: يا رسول الله وما ردغة الخبال؟ قال: عصارة أهل النار. "طب ع عن عياض بن غنم"
13230 جس نے شراب نوشی کی اور مدہوش ہوا اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہ فرمائیں گے۔ اگر وہ مرگیا تو واصل جہنم ہوگا۔ اگر توبہ کرلی تو اللہ اس کی توبہ قبول فرمالے گا۔ اگر دوسری بار شراب نوشی کی تو اسی طرح ہوگا پھر اگر چوتھی بار بھی شراب نوشی کی تو اللہ پر حق ہے کہ اس کو ردغۃ الخبال پلائے۔ پوچھا گیا : یارسول اللہ ! ردغۃ الخبال کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : اہل جہنم کے جسموں کا گندہ اخون پیپ وغیرہ۔ الکبیر للطبرانی ، مسند ابی یعلی عن عیاض بن عنم
کلام : امام ہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد کتاب الاشربۃ 70/5 پر اس کو ذکر فرمایا اور فرمایا : اس کو ابویعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے لیکن اس میں المثنی بن الصباح متروک راوی ہے ، اگرچہ ابو محصن حصین بن غیر نے اس کی توثیق فرمائی ہے لیکن جمہور نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔