13592- "مسند علي رضي الله عنه" عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: خطب علي فقال: أيها الناس، أقيموا على أرقائكم الحدود، من أحصن، ومن لم يحصن، فإن أمة لرسول الله صلى الله عليه وسلم زنت فأمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أقيم عليها الحد، فأتيتها، فإذا هي حديثة عهد بنفاس فخشيت إن أنا جلدتها أن تموت فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت له، فقال: أحسنت اتركها حتى تماثل. "ط حم م ت ع وابن جرير وابن الجارود قط ك هق"
13592 (مسند علی (رض)) ابوعبدالرحمن السلمی (رض) سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! اپنے غلاموں باندیوں پر حدود زنا نافذ کرو خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ۔ بیشک ایک مرتبہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باندی نے زنا کرلیا تھا تو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اس پر حد قائم کروں۔ چنانچہ میں اس باندی کے پاس پہنچا تو اس کو نفاس کی حالت میں پایا۔ مجھے خوف ہوا کہ اگر میں اس پر حد نافذ کروں گا تو وہ موت کے منہ میں چلی جائے گی، چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آگیا اور آپ کو خبر بیان کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے اچھا کیا۔ اس کو چھوڑ دو حتیٰ کہ وہ تندرست ہوجائے۔ مسند ابی داؤد، مسند احمد، مسلم، الترمذی، مسند ابی یعلی، ابن جریر، ابن الجارود، الدارقطنی فی السنن، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی قال الترمذی حدیث حسن صحیح