hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 13593

.

كنز العمال

13593
Kanz al-Ummal
13593- عن علي قال: أكثر على مارية قبطي ابن عم لها يزورها ويختلف إليها، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: خذ هذا السيف فانطلق، فإن وجدته عندها فاقتله، قلت: يا رسول الله أكون في أمرك كالسكة "كالسكة: السك: المسمار، والسكة: حديدة تحرث بها الأرض. المختار "243" ب" المحماة لا أرجع حتى أمضي لما أمرتني؟ أم الشاهد يرى ما لا يرى الغائب؟ قال: بل الشاهد يرى ما لا يرى الغائب، فأقبلت متوشحا السيف فوجدته عندها فاخترطت السيف فلما رآني أقبلت نحوه عرف أني أريده، فأتى نخلة، فرقي ثم رمى بنفسه على قفاه، ثم شغر برجله فإذا به أجب أمسح ماله قليل ولا كثير، فغمدت السيف، ثم أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته فقال: الحمد الله الذي يصرف عنا أهل البيت. "البزار وابن جرير حل ص" قال ابن حجر إسناده حسن.
13593 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ماریہ قبطی (جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باندی اور آپ کے بچے کی ماں بھی تھیں) کا ایک چچازاد تھا جو اکثر ان کے پاس ملنے آتا تھا اور آتا جاتا رہتا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمایا : یہ تلوار لے لے اور جا، اگر اسی آدمی کو ماریہ کے پاس پاؤ تو اس کو قتل کردینا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں آپ کے کام میں ہل کے پھار کی طرح بےدھڑس گھس جاؤں گا اور آپ کا کام کیے بغیر واپس نہیں لوٹوں گا۔ یہ بتائیے کیا غائب جو نہیں دیکھ سکتا مشاہد دیکھ سکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : شاید وہ دیکھ سکتا ہے جو غائب نہیں دیکھ سکتا (واللہ اعلم بمراد ہ الصواب) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ میں تلوار سونت کر اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا اور اس کو باندی کے پاس پالیا۔ میں تلوار کے ساتھ اس کی طرف لپکا تو اس نے مجھے دیکھ لیا کہ میں اس کی طرف بڑھ رہا ہوں اور سمجھ گیا کہ وہی میرا مقصود نظر ہے۔ چنانچہ وہ بھاگ کر کھجور کے درخت پر چڑھ گیا پھر وہ گدی کے بل لیٹ گیا اور اپک پاؤں اٹھا لیا۔ میں اس کے پاس پہنچ گیا اور اس کو چھو چھو کر دیکھنے لگا معلوم ہوا کہ اس کے پاس تھوڑا ہے اور نہ زیادہ ، (بلکہ وہ تو ہجڑا ہے) چنانچہ میں نے اپنی تلوار نیام میں کرلی پھر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر آپ کو ساری خبر سنائی۔ آپ نے فرمایا :
الحمد للہ الذی بصرف عنا اھل البیت
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے گھر والوں سے شر کو دور کیا۔ البزار، ابن جریر، حلیۃ الاولیاء، السنن لسعید بن منصور امام ابن حجر (رح) فرماتے ہیں اس روایت کی اسناد حسن ہے۔