14070- عن الشعبي قال: لما مرضت فاطمة أتاها أبو بكر الصديق فاستأذن عليها فقال علي: يا فاطمة هذا أبو بكر يستأذن عليك، فقالت أتحب أن آذن له؟ قال: نعم، فأذنت له فدخل عليها يترضاها، وقال: والله ما تركت الدار والمال والأهل والعشيرة إلا ابتغاء مرضاة الله ورسوله ومرضاتكم أهل البيت. "ق" وقال هذا مرسل حسن بإسناد صحيح.
تتمة كتاب الخلافة مع الامارة الباب الأول في خلافة الخلفاء خلافة أبي بكر الصديق رضي الله عنه
14070 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ جب حضرت فاطمہ (رض) بیمار پڑیں تو حضرت ابوبکر (رض) ان کے پاس آئے اور اندر آنے کی جازت چاہی۔ حضرت علی (رض) نے فاطمہ (رض) کو فرمایا : اے فاطمہ ! یہ ابوبکر آئے ہیں آپ سے اجازت چاہتے ہیں۔ حضرت فاطمہ (رض) نے حضرت علی (رض) سے پوچھا : کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں ان کو اندر آنے کی اجازت دیدوں ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہاں۔ چنانچہ حضرت فاطمہ (رض) نے خلیفہ ابوبکر صدیق (رض) کو اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ حضرت ابوبکر (رض) اندر آکر بنت رسول اللہ کو راضی کرنے لگے۔ اور فرمایا : اے اہل بیت ! اللہ کی قسم ! میں نے گھر، مال، اہل و عیال اور قبیلہ و خاندان صرف اللہ ورسول اور تمہارے خاندان کی رضاء کے لیے چھوڑے ہیں۔ السنن للبیہقی
یہ روایت مرسل اور صیح سند کے ساتھ حسن ہے۔